ایک جہان گمشدہ کا تعارف

کھنڈرات کا لفظ اکثر لوگوں کے لئے عموماً تفریح کے پہلو سے عاری ہی ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس میں رنگینیوں کا وہ تصور نہیں پایا جاتا جو بہت سے لوگوں کے مزاج کے موافق ہو۔ ان مقامات کی مسلم تاریخی حیثیت اپنی جگہ صحیح لیکن صرف سنجیدہ مزاج یا مطالعے کے رسیا لوگ ہی کھنڈرات اور تاریخی مقامات کی طرف نکلتے ہیں۔ اس لئے ایسی جگہوں بالخصوص کھنڈرات میں اکثر اوقات سکوت اور ویرانی ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی تبدیلی کے لئے ہی سہی ایسے مقامات کی سیاحت دلچسپی سے خالی ہرگز نہیں ہوتی۔

برصغیر میں تہذیب و ثقافت کی تحقیق ہو یا انسانی تمدن کی ترویج وترقی کا مطالعہ، ایک مقام جس پر اکثر نگاہیں آ کر ٹھہرتی ہیں وہ جگہ ٹیکسلا ہے۔
راولپنڈی اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ پشاور کی طرف چلیں تو بتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ٹیکسلا آجاتا ہے۔ یہاں سے ایک سڑک ٹیکسلا چھاﺅنی سے ہوتی ہوئی خانپور اور ہری پور کی طرف جاتی ہے۔ اسی سڑک کے دونوں طرف ٹیکسلا کے قدیم کھنڈرات واقع ہیں۔

ٹیکسلا کا عظیم ثقافتی ورثہ نا صرف ایک تاریخی حقیقت ہے بلکہ عہد قدیم کی ایسی یادگار ہے جس میں گئے زمانوں کے علم و فن کے حیرت انگیز نمونے آج کے ترقی یافتہ دور کے انسان کے لئے بھی فکر انگیز مواد رکھتے ہیں۔ چھ سو سال قبل مسیح کے ان آثار کا مشاہدہ ایک جہان گم شدہ سے متعارف ہوناہے۔ انسانی عروج و زوال کی یہ نشانیاں یقینا اپنے اندر گہرائی اور سوچ کے لئے کئی زاوئےے رکھتی ہیں۔

یہ ہندو اور بدھ مت مذاہب کے پیروکاروں کا شہر رہا ہے اور مذہبی اعتبار سے اسے ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ تکشاشیلا شاہراہ ریشم ، کشمیر، پشاور اور پٹنہ ہندوستان سے آنے والے قافلوں اور مسافروں کے لئے مرکزی مقام کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس طرح ایک نہایت بڑے علاقے کے درمیان آمد و رفت کا مرکز رہنے کی وجہ سے گندھارا تہذیب اپنے دور میں بھی خاص حیثیت رکھتی تھی۔

گندھارا پانچ سے سات سو سال قبل مسیح کی ایک سلطنت کا نام تھا جو شمالی پاکستان، کشمیر اور افغانستان کے بعض علاقوں پر مشتمل تھی۔ اس ریاست کی زیادہ تر آبادی سطح مرتفع پوٹھوہار، پشاور اور دریائے کابل سے متصل علاقوں میں تھی۔ اس کے اہم شہروں میں پروشا پورہ (موجودہ پشاور) اور تکشاشیلا (موجودہ ٹیکسلا) زیادہ اہم تھے۔
تاریخی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ گندھارا چھ سو سال قبل مسیح سے گیارہویں صدی بعد عیسوی تک قائم رہا۔ اپنی تمدنی زندگی کا عروج اس علاقے کو پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی میں ملا جب یہاں ’کشن‘ بادشاہت کا راج تھا۔ کشن بدھ مت سے تعلق رکھتے تھے ۔1021ءمیں یہ علاقہ سلطان محمود غزنوی نے فتح کر لیا۔ سلطان محمود غزنوی کے دور میں گندھارا کا نام رفتہ رفتہ محو ہوتا گیا۔ بعد میں مغلیہ دور میں یہ علاقہ کابل کے صوبے میں شامل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ افغان صوبہ کندھار کا نام گندھارا کی ہی بدلی ہوئی شکل ہے۔

انیسویں صدی میں انگریز سپاہیوں اور اہلکاروں نے برصغیر کی قدیم تاریخ میں دلچسپی لینا شروع کی۔ 1830ءمیں یہاں سے اشوکا کے دور کے چند سکے دریافت ہوئے۔ بعض چینی تاریخی کتابوں اور ان سکوں کی تحقیقات نے 1860ءمیں ٹیکسلا کے نواح میں آثار قدیمہ کا سراغ لگانے میں مدد دی اور 1912ءسے 1934ءتک کی کھدائیوں نے کی زمینوں میں دفن ان رازوں سے پردہ ہٹایا۔ کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں قدیم شہروں، سٹوپہ اور عبادت گاہوں کا انکشاف ہوا۔ ان انکشافات کی روشنی میں گندھارا اور یہاں کے علوم و فنون اور تاریخ کا تعین ممکن ہوا۔ آج ٹیکسلا میں گندھارا کی ان تمام آبادیوں، تعمیرات اور مذہبی زیارتوں کے آثاروباقیات ہیں۔

کھدائی کے بعد مختلف جگہوں سے جو آثار قدیمہ برآمد ہوئے ہیں ان میں بعض نہایت بوسیدہ حال دیواروں پر مشتمل ہیں جبکہ کئی مقامات پر قدیم تعمیرات کا اندازہ کر کے اور کھدائی کے دوران حاصل ہونے والی قابل استعمال مواد کے ذریعے ماہرین آثار قدیمہ نے تعمیرات کی ہیں۔

ٹیکسلا کے کھنڈرات یوں تو کئی کلومیٹر کے رقبے میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن ان میں سے مشہور نام بھڑماﺅنڈ، سرکپ، جولیاں، موہڑہ مرادو اور سرسکھ قابل ذکر ہیں۔بھڑماﺅنڈ کے کھنڈرات تقریباً ایک کلومیٹر کے رقبے میں ہیں۔ یہاں کی کھدائی سے ظاہر ہوا کہ یہاں چار تہوں میں مختلف ادوار کے آثارموجود ہیں۔ یہاں کی گلیاں تنگ ہیں اور مکانات کی ساخت بتاتی ہے کہ یہ کسی خاص ترتیب سے نہیں بنائے جاتے تھے۔ ان مکانات میں کھڑکیاں باہر کے رخ کی بجائے ایک اندرونی صحن میں کھلتی تھیں اور تمام کمرے اسی صحن کے گرد بنائے جاتے تھے۔

سرکپ کے کھنڈرات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ شہر ایک مرکزی شاہراہ کے گرد تعمیر کیا گیا تھا جس سے پندرہ ذیلی راستے نکلتے تھے۔ ان کھنڈرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ یونانی طرز تعمیر کے حامل ہیں۔ یہاں کی خاص بات بدھا کے سٹوپہ بھی ہیں جو سرکپ میں جابجا پائے جاتے ہیں۔ ایک ہندو مندر کی یہاں موجودگی ان مذاہب کے مابین روابط کا ثبوت پیش کرتی ہے۔

جولیاں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک مرکزی سٹوپہ اور دوسرا مذہبی عبادت گاہ اور درسگاہ۔ یہ کھنڈرات ایک بلند ٹیلے پر واقع ہیں۔ مرکزی سٹوپہ بری طرح تباہی کا شکار ہے البتہ اس کے کچھ حصوں کو اس کی اصلی حالت میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔اس بڑے سٹوپہ کے اردگرد 21چھوٹے سٹوپہ ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اصل میں یہ چھوٹے سٹوپہ بھکشوﺅں کے مقبرے ہیں۔ عبادت گاہ ایک مرکزی تالاب کے گرد قائم کی گئی تھی۔ اس تالاب کو نہانے دھونے اور دیگر ضروریات کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تالاب کے گرد 28 کمرے ہیں جن میں یہاں درس و تدریس کے لئے آنے والے طلبا قیام کیا کرتے تھے۔

موہڑہ مرادو کے کھنڈرات بھی جولیاں کے کھنڈرات سے مشابہہ ہیں اور یہاں بھی ایک سٹوپہ اور عبادت گاہ کے آثار پائے جاتے ہیں۔ یہ جولیاں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہ ایک وادی میں واقع ہیں جہاں سے اردگرد کی پہاڑیوں کا منظر خاصا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔

سرسکھ کے کھنڈرات میں اہم چیز یہاں موجود ایک طویل دیوار ہے جو پانچ کلومیٹر لمبی ہے۔ اس دیوار کی موٹائی ساڑے پانچ میٹر ہے۔ یہ دیوار شہر کی حفاظت کے لئے تعمیر کی گئی تھی۔ اس کی تعمیر میں چھوٹے اور بڑے پتھروں کی اینٹیں استعمال کی گئی ہیں۔

گندھارا میں انسانی دلچسپی کا اہم سبب یہاں کا مخصوص آرٹ بھی ہے۔ بدھ مت کے ان فنون کی رنگینی مختلف قومیتوں کے باہم ملاپ کے مرہون منت ہے۔ اس آرٹ کویونانی، شامی، فارسی اور ہندوستانی علوم و فنون نے بام عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹیکسلا کے نواح سے حاصل ہونے والے ان نوادرات میں بدھ مت مذہب کے بانی بدھا کے مجسمے،اہم شخصیات کے مجسمے، پتھر پر کھدائی کے ذریعے بنائی گئی اشکال، تصاویر اور مجسمے، دھاتی برتن، سکے اور زیورات وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام نوادرات آج بھی پاکستان سمیت دنیا بھر کے عجائب خانوں کی زینت ہیں۔ ٹیکسلا میں واقع مشہور میوزیم میں ان یگانہ روزگار تاریخی اور دلچسپی کی حامل اشیاءکا تفصیلی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

ٹیکسلا کے نواح میں واقع یہ آثار قدیمہ جنہیں ہم عموماً کھنڈرات کے نام نے پہچانتے اور اس وجہ سے کم اہمیت کی جگہ سمجھتے ہیں، ثقافت کے عالمی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔ 1980ءمیں یونیسکو نے ٹیکسلا کے ان آثار قدیمہ کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ اس عالمی ورثے کی زیارت کے لئے اندرون و بیرون ملک کے سیاح ٹیکسلا کا سفر کرتے ہیں اور اپنی اپنی دلچسپی کے مطابق معلومات اور مشاہدات سے مستفید ہوتے ہیں۔

تہذیبوں کے اتار چڑھاﺅ کے اس مطالعے اور قدیم آثار کے اس مشاہدے میں دو قسم کے سوال ذہن میں ضرور ابھرتے ہیں۔ایک یہ کہ دنیا نے ترقی کی منازل کیسے طے کیں؟اور دوسرا یہ کے ایک رواں دواں سلطنت کھنڈرات میں کیوں بدل گئی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.