وادی کمراٹ

یوں تو خیبر پختون خواہ کے تمام ہی پہاڑی علاقے کسی نا کسی انوکھی خاصیت کے حامل ہیں۔ کہیں جھیلوں میں گردو پیش کا عکس مسحور کرتا ہے تو کہیں دریاﺅں کی پر سکون ٹھنڈک گرم دنوں میں اپنی تاثیر یاد کرواتی ہے۔ کہیں سبزہ و شادابی خوابناک یادوں کا …

جھیل کنڈول

نیلے پانیوں، چاروں طرف کے اونچے پہاڑوں کے عکس اور دلچسپیوں سے بھرپور سفر کی بدولت جھیلوں کے شائقین کے لئے یہاں ہر طرح کی کشش موجود ہے۔ اپنی تمام تر رعنائیوں اور کالام جیسے پررونق مقام سے قربت کے باوجود اس جھیل کو دیکھنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں۔ …

برف کی دیوارراکاپوشی

نگر، قراقرم کے سینے میں آباد پاکستان کا وہ علاقہ جسے قدرت نے عجائبات و مناظرکا ایک اچھوتا امتزاج عطا کیا ہے۔ بلندوبالا برف پوش چوٹیاں، شفاف پانی کی ندیاں، اپنی نوعیت کے منفرد ترین گلیشیئر، گھنے جنگلات،سبزہ زاراور آبشاریں : یہ تمام اجزا جو کسی بھی خوابناک خوبصورتی کی …

سلسلہ کوہ ہندوکش کی رنگینی

تاریخ میں ‘ہندوکش’کا نام مشہور سیاح ابنِ بطوطہ (1334ئ)کے حوالے سے ملتا ہے۔ ابن بطوطہ نے اس نام کی وجہ یہ لکھی کہ بہت بڑی تعداد میں قیدی ہندوستانی لڑکے اور لڑکیاںجو افغانستان اور دیگر علاقوں میں لے جائے جاتے تھے اس پہاڑی علاقے میں انتہائی برف اور شدید ترین …

ہوپر

گلگت بلتستان کا ذکر یہاں کی عظیم برفوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ قراقرم، ہمالیہ، ہندوکش اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں میں جہاں لاتعدادسربفلک پہاڑی چوٹیاں، منفرد ترین جنگلی حیوانات ، تیزرفتار و پرشور دریا اور حسین جنگلات وسبزہ زار ہیں وہاں دنیا کے طویل ترین گلیشئیربھی یہاں کی …

دنیا کا آٹھواں عجوبہ ۔ شاہراہِ قراقرم

حسن ابدال تا کاشغر۔ 1300کلومیٹر طویل یہ شاہراہ ناصرف پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی رابطوں کا اہم ترین ذریعہ ہے بلکہ گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں کو وفاقی دارالحکومت اور دیگر شہروں سے ملانے کے ساتھ ساتھ ملک کے حسین ترین پہاڑی اورتاریخی مقامات تک پہنچنے کا اہم …