Urdu Articles

نیلان بھوتو- قدرتی حسن اور عجائبات کی وادی

May 8th, 2016 by

اسلام آباد سے لگ بھگ ایک گھنٹے کی دوری پر اور پیر سوہاوہ جیسے مشہور اور پرفضامقام سے صرف آدھے گھنٹے کی مسافت پرمارگلہ پہاڑی سلسلے کی سب سے حسین وادی واقع ہے جس سے کم ہی لوگ واقف ہیں۔ سرسبز پہاڑیوں، جنگلات، پھولوں، کھیتوں، شفاف اور ٹھنڈے بہتے پانیوں سے مزین اس حسین وادی کا نام ‘نیلان بھوتو’ ہے۔ یہ وادی ویسے تو ضلع ہری پور کا حصہ ہے لیکن اسلام آباد سے یہاں تک تیس سے پینتیس کلومیٹر کا سفر کر کے پہنچنا زیادہ آسان ہے۔ اسلام آباد کے چڑیا گھر، دامنِ کوہ اور پیر سوہاوہ سے ہوتے …

وادی لیپہ ، کشمیر کاپوشیدہ حسن

August 4th, 2015 by

تصاویر میں اس وادی کا عکس دیکھ کرآنے والوں کا خیال کچھ بھی ہو لیکن ایک انجان مسافر کے لئے یہ تصور بھی ناممکن ہے کہ کسی موڑ یا بلندی سے اچانک ایسا نظارہ بھی سامنے آ سکتا ہے جو یادداشت میں موجود ہر منظر اور ہر رنگ کو یکلخت مٹا کر رکھ دے گا۔ پے در پے موڑوں، اترائیوں،حال سے بے حال کرنے والے پتھریلے کچے راستوں اور شاید سو سال پرانے تنگ بازار وں کی اس دنیا کے کسی سرے پر وسعت و کشادگی کا ایک نیا مفہوم بھی اپنی کم فہمی کا احساس بڑھائے گا۔ قدرت کی …

شاردہ یونیورسٹی، ایک یادِماضی

October 8th, 2014 by

شاردہ یونیورسٹی کی طرف چڑھائی چڑھتے ہوئے قدم بوجھل محسوس ہوتے تھے۔ پچھلے چار دنوں کے مسلسل پیدل سفر کی تھکاوٹ کا اثر ابھی آرام مانگتا تھا۔ جلکھڈ سے دواریاں تک رتی گلی جھیل کا شوق دن بھر چلنے کے لئے تیار تو کر دیتا تھا لیکن پتھریلے راستوں اور برفانی بلندیوں نے اپنے اثرات پورے جسم پر مسلط کر دیئے تھے۔ سوچا تھا کہ دواریاں کے کسی گیسٹ ہاﺅس کی نسبت شاردہ کے کسی زیادہ آرام دہ ہوٹل میں رات بسر کی جائے تو کچھ افاقہ ہو۔ لیکن سیاحوں کے اژدہام نے یہ خواہش بھی پوری نا ہونے دی …

تاﺅ بٹ

November 8th, 2013 by

تاﺅ بٹ کسی شخصیت کا نہیں بلکہ پاکستان کی سب سے خوبصورت وادی کا نام ہے! وادی نیلم کے انتہائی شمال میں واقع یہ وادی ان علاقوں میں سے ہے جس کی کسی بھی زاویے سے لی گئی تصویر قدرتی حسن کا ایک شاہکار قرارپاتی ہے۔ گھنے جنگلات کی بات ہو یا سرسبز ہموار میدانوں کی، نیلگوں پانیوں کا تذکرہ ہو یا پرتسکین موسم کا خیال، تاﺅ بٹ ہر تصور سے زیادہ حسین مقام ہے۔ مظفرآباد ، شاردہ یا کیل سے جیپ کے ذریعے ہی اس جنت نظیر وادی تک پہنچاجا سکتاہے۔ مظفرآباد سے تاﺅ بٹ تک ایک طویل سفر …

دودھی پت سر

November 8th, 2013 by

وادی کاغان کی دلفریب ترین جھیل دودھی پت کے بغیر کاغان کا تعارف مکمل نہیں ہو سکتا۔ قدرت کے پردوں میں پوشیدہ یہ نظارہِ بے مثال حسن نظر، ہمت اور استقامت مانگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت کی اس لاجواب تخلیق کا نظارہ کرنے والوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں۔ تین ہزار آٹھ سو اسی میٹر کی بلندی، طویل عمودی چڑھائیوں اور موسم کی بے اعتباری کے باعث اس جھیل تک جانا ایک مشکل کام ضرور ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ برف پوش پہاڑیوں اور سرسبز و شاداب ڈھلوانوں کے بیچ شفافیت اور ٹھنڈک کا یہ ذخیرہ …

فیری میڈوز,ہمالیہ کا حسین ترین خطہ

October 28th, 2013 by

سر سبز گھاس سے مزین میدانوں، ہزار ہا رنگ کے پھولوں، شفاف پانی کی ندیوںاور گھنے دیودار کے جنگلات پر مشتمل ایک خطے کو اگر پریاں اپنا مسکن بنا لیں تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں! مقامی لوگوں کاکہناہے کہ پریوں نے ہمالیہ کے اس حسین ترین خطے کو اپنی جنت کے طور پر چن رکھا ہے ۔ ادبی ذوق والے انسانوںنے بھی یہاں کے قدرتی حسن سے متاثر ہو کراس توجیہہ کو تسلیم کیا اور بالآخر یہ خوبصورت ترین جگہ’ فیری میڈوز’ یعنی ‘پریوں کی چراگاہوں’ کے نام سے تمام دنیا میں شہرت اختیار کر گئی۔ کچھ لوگوں کا …

سیاحوں کو بلندیوں تک پہنچانے والے

October 26th, 2013 by

محنت و مشقت کے تذکرے میں ایک انتہائی دلچسپ لیکن نظروں سے اوجھل باب ان ناقابل یقین جفاکشوں کا بھی ہے جوگراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ناخواندگی ، پسماندگی اور شہروں سے دوری کے باعث اپنے ہم وطنوں کے لئے اجنبی ہیں۔ یہ جفا کش انتہائی سرد اور دشوار گزار پہاڑی علاقوںجہاں بلند پہاڑوں کی آڑ میں جنت نظیر وادیاں اوربرف پوش بلندیاں واقع ہیں، اپنی جرات و محنت سے بے شمار سیاحوں، کوہ پیماﺅں اور تحقیقاتی اداروں کو کامیابی سے ہمکنار کر چکے ہیں۔ اپنی جان کی بازی لگا کر کئی ملکی و غیرملکی افراد کو …

وادی نلتر

October 24th, 2013 by

لیکن در حقیقت یہ وادی اس تصویر سے کہیں زیادہ دلکش اور دلآویزہے۔ گلگت شہر کے خشک اور بھورے پہاڑوں کو دیکھ کر یہ گمان کرنا بھی مشکل ہواکرتا ہے کہ کہیں آس پاس کوئی سرسبز ، پرفضا اور قدرتی مناظر سے لبریز خطہ بھی ہو گا! اس بے یقینی کو دور کرنے کے لئے صرف ایک گھنٹے کا پختہ سڑک کے ذریعے جیپ کا سفر کرنا پڑتاہے ۔ گلگت بلتستان کا بیشتر علاقہ مون سون کی پٹی سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے اپنا ایک الگ مخصوص موسی مزاج رکھتا ہے۔ لیکن گلگت سے صرف چالیس کلومیٹر کے فاصلے …

منی مرگ، ایک دلفریب وادی

October 24th, 2013 by

صوبہ گلگت بلتستان کا ضلع استور کئی خصوصیات کی وجہ سے سیاحوں کے لئے باعث کشش ہے۔ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں آباد یہ علاقہ پاکستان کے دوسرے بلند ترین پہاڑ نانگا پربت کی دوسری طرف واقع ہے۔ استور ایک طرف سے آزاد کشمیر ،دوسری طرف سکردو سے دیوسائی کے ذریعے ملا ہوا ہے اورتیسری طرف گلگت کا طویل و عریض علاقہ ہے۔ استور ایک فراخ وادی کی صورت میں خشک بھورے پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ اس کی بلندیوں پر جائیں تو گھنے جنگلات، جھیلیں، برف پوش چوٹیاں اور یخ بستہ پانی کی ندیاں ہیں۔ انہی سرسبز اور …

چٹا کٹھہ، ایک برفانی جھیل

October 24th, 2013 by

پاکستان کی بعض جھیلیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی مختلف اور منفرد ہیں۔ نہایت بلندی پر برفیلے پہاڑوں کے قدموں میں واقع ہونے کی وجہ سے سال کے چند ہی دن ان جھیلوں میں پانی نظر آتا ہے۔ باقی تمام سال یہ ایک ٹھوس برف کی شکل اختیار کئے رہتی ہیں۔ چٹہ کٹھہ کا مطلب سفید ندی ہے۔ یہ جھیل وادی شونٹرکی چند حیرتوں میں سے ایک اور کئی طلسماتی کہانیوں کی بنیاد ہے۔ وادی شونٹر وادی نیلم سے ملحقہ وادی ہے جو کیل سے شروع ہو کر درہ شونٹر کے ذریعے گلگت بلتستان کے ضلع استور تک جاتی …

یٹی کون؟

October 23rd, 2013 by

”وہ اطمینان سے سورہاتھا،ہم نہایت احتیاط اور خاموشی سے اس کے قریب ہوئے۔کوئی بیس میٹر کے فاصلے پر رک کر ہم اس کا مشاہدہ کرنے لگے۔ کچھ دیر تک تو وہ سویا رہا لیکن پھر کسی آہٹ سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ جوں ہی اس نے ہمیں دیکھا وہ حیران رہ گیا۔ اس کے تاثرات ایک ایسے بچے کی طرح تھے جس نے پہلی دفعہ کسی کو دیکھا ہو۔ چندمنٹ وہ ہمیں حیرانگی اور بے یقینی کی کیفیت میں دیکھتا رہا اور پھر آہستگی سے اٹھا اور وہاں سے چلا گیا۔ “ رین ہولڈ میسنر کے 1997میں کہے یہ …

ہوشے،پہاڑوں کا ایک رومانوی گاﺅں

October 23rd, 2013 by

ہوشے ،سات ہزار آٹھ سو اکیس میٹر بلند، دنیا کی چوبیسویں اور پاکستان کی نویں بلند ترین چوٹی مشہ بروم (کے ون) کے سائے میں واقع وہ گاﺅں جہاں دنیابھر کے کوہ نورد اور ایڈوینچر کے متلاشی ایک ناقابل بیاں کیفیت کا شکار ہو جایا کرتے ہیں۔دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں قراقرم، ہمالیہ اورہندوکش کی بلندیاںآج تک پہلے انسانی قدم کا انتظار کر رہی ہیں۔ انہی پہاڑی سلسلوں میں سے سب سے خطرناک سلسلہ قراقرم ہے جو کوہ نوردوں کی رگ و پے میں سنسنی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سلسلہ قراقرم تبت اور لداخ کے علاقوں سے ہوتا …

ایک جہان گمشدہ کا تعارف

October 21st, 2013 by

کھنڈرات کا لفظ اکثر لوگوں کے لئے عموماً تفریح کے پہلو سے عاری ہی ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس میں رنگینیوں کا وہ تصور نہیں پایا جاتا جو بہت سے لوگوں کے مزاج کے موافق ہو۔ ان مقامات کی مسلم تاریخی حیثیت اپنی جگہ صحیح لیکن صرف سنجیدہ مزاج یا مطالعے کے رسیا لوگ ہی کھنڈرات اور تاریخی مقامات کی طرف نکلتے ہیں۔ اس لئے ایسی جگہوں بالخصوص کھنڈرات میں اکثر اوقات سکوت اور ویرانی ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی تبدیلی کے لئے ہی سہی ایسے مقامات کی سیاحت دلچسپی سے خالی ہرگز نہیں ہوتی۔ …

شوسر جھیل، دیومالائی سرزمین کا جادو

October 20th, 2013 by

کیا کوئی جھیل بھی اندھی ہو سکتی ہے؟ جب انسان اپنے علم و فہم کو کسی پیش آنے والی حیرت کے مقابلے میں کم تر پاتا ہے تو ایسے معاملے کو قریب ترین قابل فہم نام دیتا ہے۔ سطح مرتفع دیو سائی میں واقع اس جھیل کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ خوددیو سائی کا نام بھی ایسا ہے کہ جس سے دیو مالائی و طلسماتی تاثر فوراً ہی ذہن میں ابھرتا ہے اور ایسے مقام پر ایک اندھی جھیل! دیو سائی دو الفاظ کا مجموعہ ہےدیو’ اور ‘سائی’یعنی’ دیو کاسایہ’۔ ایک ایسی جگہ جس کے بارے میں صدیوں یہ یقین …

گدلے پانیوں کی ٹراﺅٹ اور خوبانی

October 16th, 2013 by

انسانی اور موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے نقصانات کے بارے میں حالیہ عشروں میں جو کچھ کہا اور لکھاجا چکا ہے اس سے دنیا بھر کے لوگوں کے شعور میں یقینا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس شعور سے کما حقہ فائدہ اٹھانے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں۔ غریب اور کم تعلیم یافتہ معاشروں میں ابھی کن اقدامات کی ضرورت ہے اور تعلیم یافتہ مہذب معاشروں میں کن تیز رفتار اقدامات کو روکنا ضروری ہے۔ لیکن یہ ایک آنکھوں دیکھی حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کی برفیں تیزی سے پگھل اور سمندر کی نذر ہوتی جا …