وادی لیپہ ، کشمیر کاپوشیدہ حسن

تصاویر میں اس وادی کا عکس دیکھ کرآنے والوں کا خیال کچھ بھی ہو لیکن ایک انجان مسافر کے لئے یہ تصور بھی ناممکن ہے کہ کسی موڑ یا بلندی سے اچانک ایسا نظارہ بھی سامنے آ سکتا ہے جو یادداشت میں موجود ہر منظر اور ہر رنگ کو یکلخت مٹا کر رکھ دے گا۔ پے در پے موڑوں، اترائیوں،حال سے بے حال کرنے والے پتھریلے کچے راستوں اور شاید سو سال پرانے تنگ بازار وں کی اس دنیا کے کسی سرے پر وسعت و کشادگی کا ایک نیا مفہوم بھی اپنی کم فہمی کا احساس بڑھائے گا۔ قدرت کی فیاضی اور انسانی حکمت و محنت کا کوئی امتزاج ایسا بھی ہو گا جو صرف اپنی مثال آپ ہو۔ یہ صورتحال اسی وقت پیش آتی ہے جب وادی لیپہ گہرے سبز جنگلات سے گھری پہاڑیوں کے اندر اور میلوں دور تک پھیلے تہہ در دتہہ، کہیں چھوٹے کہیں ذرا بڑے چاول کے کھیتوں کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ قدرت نے جہاں اس پرسکون وادی کوچیڑھ، دیودار، چنار اور دیگر کئی قسم کے درختوں سے دل کھول کر نوازا ہے وہیں انسانوں کو وہ ہنر اور جفاکشی بھی بخشی ہے جس نے وادی کے وسیع و عریض فرش کو سبز نقش و نگار سے مزین ایک دیدہ زیب قالین کی شکل میں ڈھال رکھا ہے۔

ٓآزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے وادی لیپہ کا زمینی فاصلہ تو ایسا زیادہ نہیں لیکن دشوار اور کچے راستوں بلند دروں اور عین لائن آف کنٹرول پرہونے کے سبب یہاں تک پہنچنے میں آٹھ سے دس گھنٹے لگ ہی جاتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی بڑی آبادیوں والی وادیوں میں شاید یہ واحد وادی ہے جہاں براہ راست آمد و رفت کا کوئی ذریعہ نہیں۔ ستر ہزار سے زائد آبادی کے لئے ریشیاں نامی گاﺅں ایک دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ریشیاں تک تو عام گاڑیاں ،ویگنیں یہاں تک کے بڑی بسیں بھی آتی ہیں لیکن ریشیاں سے آگے لیپہ کے لئے سفر صرف جیپوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ تحصیل لیپہ آزاد کشمیر کے ڈسٹرکٹ ہٹیاں بالا کا حصہ ہے جو مظفرآباد سے ایک شاندار سڑک کے ذریعے منسلک ہے۔ اڑتیس کلو میٹر کا یہ سفر نہایت آسانی سے دریائے جہلم ،دریا سے بلندہوتی سر سبز پہاڑیوں اور ان پہاڑیوں کے دامن میں آباد خوبصورت دیہات کے نظاروں میں کٹتا ہے۔ ہٹیاں بالا سے آگے دریا پر قا ئم پل کو پار کرتے ہی مسلسل چڑھائی، ناہموار اور تنگ راستے کی وجہ سے سفر نہایت سست ہو جاتا ہے۔برف یا بارش کے موسم میں کچا راستہ مزید مشکلات اور خطرات کا باعث بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریشیاں تک تیس کلومیٹر کا یہ سفر چار سے پانچ گھنٹے بھی لے لیتا ہے۔

سست رفتاری سے قطع نظر نظارے یہاں بھی دلفریب ہیں۔ شاداب پہاڑوں، اونچے نیچے کھیتوں اور ترچھی چھتوں والی آبادیوں کے بیچ جھرنوں اور آبشاروں کا ایک سلسلہ لیپہ کی وادی تک ساتھ رہتا ہے۔ چند مختصر اور سادہ بازار بھی راستے میں آتے ہیں جہاں بنیادی ضروریات کی اشیاءمیسرہیں۔ جوں جوں بلندی بڑھتی ہے موسم کی خوشگوار یت اور جنگلات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دور کی پہاڑیوں پر آباد گاﺅں اور مکانات ان سبز جنگلات کے بیچ نہایت دلفریب دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی مشکلات اور طوالت کے باوجود یہ سفر اکتادینے والا ہر گز نہیں۔

اسی مسلسل بلندی کے تقریباً اختتام پر ریشیاں واقع ہے۔ سر سبز اور پر فضا ماحول والا یہ مختصر سا گاﺅں پہاڑی ڈھلوانوں پر آباد ہے۔ تیس چالیس دوکانوں اور اکا دکا چائے اور کھانے کے ہوٹلوں پر مشتمل ایک بازار ہی یہاں کا سیاحتی مرکز ہے۔ مسافروں کے لئے ریشیاں میں رہائش کا بھی کوئی مناسب انتظام نہیں اور اس کے لئے مزید بلندی پر درہ داﺅکھن میں موجود دو ریسٹ ہاﺅس ہی مسافروں کا ٹھکانہ ہو سکتے ہیں۔ داﺅکھن تقریباً پچیس سو میٹر کی بلندی پر واقع قدرتی حسن سے مالامال درہ ہے جہاں سے وادی لیپہ میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ گھنے جنگلات اور سرسبز ڈھلوانوں کے مناظر سے لبریز اس مقام پر ٹھہرنا ایک نہایت پرلطف تجربہ ہے۔ محکمہ جنگلات یا ایک نجی ریسٹ ہاﺅس میں موجود رہائشی کمرے یا درختوں سے گھرے احاطوں میں کیمپنگ شب بسری کے لئے موزوں انتخاب ہو سکتے ہیں۔

داﺅکھن کے علاوہ درہ ریشیاں وادی لیپہ میں داخلے کا ایک متبادل راستہ ہے۔ درہ ریشیاں اٹھائیس سو میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور عام آمدورفت کے لئے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ بعض سیاح جیپ کے ذریعے ایک درے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے ہیں۔ ان بلندیوں سے وادی لیپہ تک پے در پے موڑوں پر مشتمل تند اترائی کا راستہ ہے جو انتہائی گھنے جنگل میں ہے۔ خوبصورت آبشاریں اور پہاڑی جھرنے اس سرسبز سفر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ بلندی میں کمی کے ساتھ ساتھ وادی کی وسعت اور آبادی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ آبادی میں اضافے سے مراد وقفے وقفے سے دکھائی دیتے وہ گاﺅں ہیں جو چند خوبصورت گھروں پر مشتمل ہیں اور ان کے ارد گرد ہر ممکن جگہ پر کاشتکاری کی گئی ہے۔ چنار اور دیگر درختوںکے جھنڈ میں کہیں چھپے کہیں واضح ترچھی چھتوں اورلکڑی یا مٹی کی دیواروں والے یہ گھر منظر کو ایک الگ خوبصورتی عطا کرتے ہیں۔

وادی لیپہ کے لوگ پرخلوص، مہمان نواز اور مہذب ہیں۔ چھوٹے بڑے سکولوں اور اکا دکا کالجوں کی وجہ سے یہاں کا تعلیمی معیار بھی مناسبہے جو لوگوں کے انداز و اطوار میں بھی جھلکتا ہے۔ بجلی بھی وادی لیپہ کے دور دور تک کے گاﺅں میں موجود ہے۔ مقامی سفر کے لئے موٹر سائیکلوں کا استعمال یہاں عام ہے۔ کاشتکاری اور پاکستان کے دیگر شہروں میں ملازمت یہاں کے لوگوں کا بنیادی ذریعہ معاش ہے۔ کاشتکاری میں یہاں چاول ، گندم اور مکئی سب سے اہم فصلیں ہیں۔ ان فصلوں کے علاوہ سیب، ناشپاتی، اخروٹ اورآڑو یہاں کے اہم پھل ہیں۔ بلندیوں سے پگھلتی برفوں اور قدرتی چشموں کے پانی کی فراوانی یہاں کی زمین کو چاول کی کاشت کے لئے انتہائی موزوں ماحول فراہم کرتی ہے۔ صدیوں سے کی جانے والی کوششوں کے باعث یہاں کے لوگوں نے زمین کو انتہائی خوبصورتی، سمجھداری اور محنت سے خوبصورت قطعوں کی شکل میں قابل کاشت بنایا ہے۔ گھنے جنگلات اور تنگ راستے کے ایک طویل سفر کے بعد دل و دماغ کو سکون بخشنے والی وسعت میں یہی چھوٹے بڑے اور اونچے نیچے قطعے چاروں طراف کی جنگلات سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان ایک ناقابل بیان منظر کو تشکیل دیتے ہیں۔

راستے کے اطراف واقع چند مختصر بازاروں اور آبادیوں سے گزرنے کے بعد خاص وادی لیپہ کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک مرکزی بازار جہاں لکڑی سے بنی دوکانیں اور ایک سادہ ہوٹل واقع ہے۔ وادی لیپہ کے مرکزی بازارسے ذرا پہلے سڑک سے کچھ بلندی پر اور بازار سے دس پندرہ منٹ کی مسافت پر واقع نوکوٹ گاﺅں کے اطراف واقع چاول کے کھیت اس وادی کے حسن کے اصل مراکز ہیں۔ ان دونوں مقامات پر یہ کھیت ایک وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کھیتوں کے درمیان کہیں کہیں خوبصورت مکان اور تنگ پگڈنڈیوں پر کھلتے رنگ برنگے پھول اس منظر کی رنگینی میں اور بھی اضافہ کرتے ہیں۔ جہاں رنگوں اور زندگی سے بھرپور ہموار کھیتوں کا اختتام ہوتا ہے وہاں سے گھنے جنگلات سے لبریز پہاڑی بلندیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ انہی پہاڑیوں سے اترتے نالے اور ٹھنڈے جھرنے ان کھیتوں کو سیراب اور ہوا کی ٹھنڈک میں اضافہ کرتے ہیں۔ انہیمناظر کی عکس بندی بہت سی تصاویر کی صورت میں لیپہ کی صرف کچھ فیصد شبیہہپیش کرتی ہے ۔ تصویر کے تمام رخ دیکھنے اور اس تاثیر کو محسوس کرنے کے لئے یہاں آنا شرط ہے۔

خوابناک وادی لیپہ کے ہر گوشے سے دکھائی دینے والا منظر دلکش اور ہوا سے سرسراتے درختوں کی چھاﺅں میں کسی بہتے جھرنے کے کنارے گزرنے والا ہر لمحہ پر کیف ہے۔ شور شرابے کی دنیا کے مکین اور خود ساختہ مصروفیات کی تھکاوٹ سے نڈھال کو اپنے خول سے باہر جھانکنے کے لئے اور کیا چاہئے؟